, June 29 -- چنڈی گڑھ، 29 جون (یو این آئی) پنجاب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) درج فہرست ذات (ایس سی) مورچہ کے نائب صدر پرم جیت سنگھ کینتھ نے پیر کے روز کانگریس پر شدید حملہ کیا اور کہا کہ 'وِکست بھارت-گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیِوکا مشن' (وی بی-جی رام جی) کی مخالفت یہ ثابت کرتی ہے کہ کانگریس شفافیت، جواب دہی اور دیہی ترقی سے گھبرائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس اسکیم کو پنجاب حکومت پہلے ہی نوٹیفائی کر چکی ہے، اس کی مخالفت کر کے کانگریس محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی سیاست کر رہی ہے۔مسٹر کینتھ نے کہا کہ کانگریس کو منریگا پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنے دورِ حکومت میں ہونے والے مبینہ گھوٹالوں کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کے وقت فرضی جاب کارڈ، فرضی مسٹر رول، کاغذوں پر ترقیاتی کام، دلالوں کا دبدبہ، ناقص تعمیرات اور مزدوروں کو وقت پر مزدوری نہ ملنا جیسی بے ضابطگیاں عام بات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر منریگا بدعنوانی کا مترادف بن چکا تھا اور آج کانگریس اسی نظام کا دفاع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کا مقصد صرف دیہاڑی فراہم کرنا نہیں بلکہ مستقل روزگار، فروغ ہنرمندی، خود روزگار، مضبوط دیہی بنیادی ڈھانچہ اور خود کفیل دیہی معیشت کی تعمیر کرنا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'وی بی جی رام جی' اسکیم دیہی ہندوستان کی ترقی کو نئی سمت دینے والی ایک انقلابی پہل ہے، جس میں ایک ایک روپے کا شفاف استعمال اور حقداروں تک براہِ راست فائدہ پہنچانا یقینی بنایا جائے گا۔مسٹر کینتھ نے کہا کہ کانگریس کی اصل تشویش کسی نئی اسکیم سے نہیں بلکہ اس شفاف نظام سے ہے جس میں بدعنوانی، دلالوں اور سیاسی سرپرستی کی کوئی گنجائش نہیں بچے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ برسوں تک فلاحی اسکیموں میں بے ضابطگیوں کی سیاست کرنے والوں کو جوابدہ نظام راس نہیں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'غریبی ہٹاؤ' کا نعرہ دینے والی کانگریس دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود نہ تو غریبی ختم کر سکی اور نہ ہی دیہی بھارت کو بااختیار بنا سکی۔ اب جب مرکزی حکومت شفاف اور نتائج پر مبنی اصلاحات نافذ کر رہی ہے تو کانگریس بے بنیاد الزامات لگا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔مسٹر کینتھ نے پنجاب حکومت کی طرف سے 'وی بی جی رام جی' اسکیم کو نوٹیفائی کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دیہی ترقی، روزگار کی فراہمی اور اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کی سمت میں ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اس اسکیم کو پوری ایمانداری، شفافیت اور مؤثر طریقے سے نافذ کرے گی تاکہ دیہی مزدوروں، کسانوں، درج فہرست ذاتوں، پسماندہ طبقات اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ مل سکے۔ بی جے پی رہنما نے کہا کہ یہ کانگریس کے دوہرے کردار کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایک طرف پنجاب حکومت اسکیم کو نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر چکی ہے، جب کہ دوسری طرف کانگریس مسلسل اس کی مخالفت کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسکیم واقعی عوام دشمن ہوتی تو پنجاب حکومت اسے نافذ کرنے کا فیصلہ کبھی نہ کرتی.
हिंदी हिन्दुस्तान की स्वीकृति से एचटीडीएस कॉन्टेंट सर्विसेज़ द्वारा प्रकाशित