, July 23 -- منوج کمار نے وعدہ کرلیا اور ان کی پوری زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی ۔ہسپتال سے جب گھر پہنچے تو بہن اس دنیا میں نہیں رہیَ۔ بہن کا صدمہ نے انہیں توڑ کر رکھ دیا۔ بقول منوج کمار "جب میری بہن کو دفن کیا جارہا تھا تو مجھے ایسا لگا جیسے میری زندگی کا ایک بڑا حصہ دفن ہونے جارہا ہے، میرا وجود مجھے خود پر بوجھ سا لگنے لگا۔منوج کمار کی طبیعت میں اس حادثہ کے بعد انکساری اور عاجزی آگئی تھی۔ ان کے اپنے رفقا کے ساتھ ہمدردی کا رویہ نہایت نرم ہوگیا۔ جس زمانے میں وہ فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے تھے اسی دوران ان کے دوست اور ساتھی دھرمیندر تقریباً مایوس ہوچکے تھے. ایک دن تو وہ بوریا بستر باندھ کر جانے کو تھے لیکن منوج کمار نے انہیں زبردستی روک کر امید برقرار رکھنے کی تلقین کی. ان کی یہ تلقین رنگ لائی اور ہندی سینما کو دھرمیندر جیسا سدابہار فن کار نصیب ہوا.اگر منوج کمار ان کو نہ روکتے تو "شعلے" ، "میرا گاؤں میرا دیش" اور "آنکھیں" جیسی فلمںن پردہ سیمیں کی رونق نہ بن پاتیں۔ان کی ہمت، ثابت قدمی اور شکست نہ ماننے کا ثمر ان کو 1962 میں ملا جب انہوں نے ایک نہیں، دو بہترین فلموں کے ساتھ خود کو بطور چاکلیٹی ہیرو کے طور پر منوا یا. "ہریالی اور راستہ" و "شادی" جیسی خوبصورت فلموں کے ذریعے انہوں نے بالآخر وہ مقام پالیا جس کا خواب انہوں نے دلیپ کمار کی "شبنم" دیکھنے کے بعد آنکھوں میں بُننا شروع کیا تھا. اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہ دیکھا. ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں منظر عام پر آئیں۔ "نقلی نواب" ، "گھر بساکے دیکھو" ، "وہ کون تھی" اور سب سے بڑھ کر عظیم انقلابی رہنما کامریڈ بھگت سنگھ کی زندگی پر مبنی فلم "شہید۔ اس فلم میں انہوں نے حقیقی بھگت سنگھ بن کر دکھایا۔فلم'' اپکار" نے ایک نئے منوج کمار کو جنم دیا اور وہ تھے بھارت کمار"...اس فلم میں منوج کمار کا نام بھارت کمار تھا اور اس کے بعد انہوں نے جتنی بھی فلمیں بنائیں ان میں انہوں نے اپنا نام "بھارت کمار" ہی رکھا جو بعد ازاں ان کی پہچان بن گیا.
اس کے بعد انہوں نے جتنی بھی فلمیں ہدایت کیں ان میں حب الوطنی کا رنگ چھایا رہا "پورب پچھم" ، "روٹی کپڑا اور مکان" ، "کرانتی" ، "دیش واسی" اور "کلرک" وغیرہ . صرف فلم "شور" میں انہوں نے کچھ الگ کر دکھایا جس کے باعث فلم ہٹ رہی۔ہدایت کاری، پروڈکشن اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے گوکہ وہ چار لیکن بہترین فلموں سے آگے نہ بڑھ سکے، البتہ اداکاری کے شعبے میں انہوں نے اپنے اس مقام کو برقرار رکھا جو "ہریالی اور راستہ" سے انہیں ملا.
انہوں نے بعض فلموں پر گہری چھاپ چھوڑی. دلیپ کمار اور وحیدہ رحمان کے ساتھ ٹرائنگل رومانٹک اور ٹریجڈی ڈرامہ "آدمی" ؛ وحیدہ رحمان، راجکمار اور بلراج ساہنی کے ساتھ "نیل کمل" علاوہ ازیں راج کپور، راجندر کمار اور دھرمیندر پر مشتمل کلاسیک "میرا نام جوکر" جیسی فلموں کو بجا طور پر شاہکار قرار دیا جاسکتا ہے. جن میں انہوں نے سینئر ترین اداکاروں بالخصوص اپنے گرو دلیپ کمار اور لیجنڈ راج کپور کے سامنے جم کر اداکاری کے جوہر دکھائے اور میلہ لوٹ لیا۔آج منوج کمار فلمی دنیا سے کنارہ کش ہوکر ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں. گذشتہ سال فلمی صنعت نے ان کی لازوال خدمات کا اعتراف کر کے انہیں بھارت کی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے اعزاز "دادا صاحب پھالکے ایوارڈ" سے نوازا، جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں.
हिंदी हिन्दुस्तान की स्वीकृति से एचटीडीएस कॉन्टेंट सर्विसेज़ द्वारा प्रकाशित