, Oct. 9 -- سال 1956 میں گرودت کی فلم سی آئی ڈی منظرِ عام پر آئی، بازی اور آر پار کی طرح یہ بھی جرم و سزا کی ایک کہانی تھی لیکن اس میں گرُو دت نے وحیدہ رحمان کو متعارف کرایا اور ہدایتکار کی ذاتی زندگی میں یہ واقع ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوا۔سال 1953 میں گرودت نے اس زمانے کی معروف گلوکارہ گیتا دت سے شادی کر لی تھی۔ اُن کے دو بیٹے بھی پیدا ہوچکے تھے اور زندگی بڑی خوشگوار گزر رہی تھی لیکن وحیدہ رحمان گرُو دت کی فلمی زندگی میں داخل ہوئی تو ان کی گھریلو زندگی میں ایک طوفان آگیا۔گیتا دت پر افسردگی اور جھنجھلاہٹ کے دورے پڑنے لگے۔ اس نے شوہر کی جاسوسی شروع کردی اور ایک روز کہیں سے اطلاع ملنے پر کار میں شوہر کا پیچھا شروع کردیا کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ وحیدہ کے پاس جا رہا ہے۔ جب شوہر کو پتہ چلا تو وہ سخت برہم ہوئے اور اس روز سے ان کے درمیان اجنبیت کی دیوار کھڑی ہوگئی۔گرُو دت کے دوستوں کی ہمدردیاں چونکہ ان کی بیوی کے ساتھ تھیں اس لئے وہ ایک ایک کر کے گرودت سے دور ہونے لگے۔ گیتا دت نے بھی تنگ آکر الگ مکان لے لیا اور بچوں کو لے کر وہاں چلی گئی۔ وحیدہ نے جب دیکھا کہ گرودت کی تمام پریشانیوں کا الزام ان پر آرہا ہے تو وہ بھی کنارہ کش ہوگئی اور یوں گرودت بالکل تنہا رہ گئے۔ انہیں پریشانیوں کے دنوں میں ان کی فلم پیاسا ریلیز ہوئی جس میں ایک سچے فنکارکی مشکلات اور فن کے بارے میں دنیا والوں کی بے حسی کو پیش کیا گیا تھا۔فلمی پنڈتوں کے اندازوں اور پیش گوئیوں کے برعکس فلم پیاسا انتہائی کامیاب رہی۔ فلم میں ساحر لدھیانوی کی جس طرح کے گیت لکھے اس کا ایک ایک لفظ صورتِ حال پر سو فیصد درست بیٹھتا تھا۔ اس کامیابی سے حوصلہ پاکر گرُو دت نے فن کار کا حتمی المیہ پیش کرنے کےلئے ایک سوانحی فلم تیار کی جس میں ایک فلمی ہدایتکار کی زندگی پیش کی گئی تھی جو کہ بیوی اور محبوبہ کے دو پاٹوں کے درمیان پِس کر رہ گیا ہے اور آخرکار شراب میں زندگی کوہمیشہ کے لئے ڈبو کر ہر طرح کے مصائب سے آزاد ہوجاتا ہے۔گرُو دت نے کاغذ کے پھول بڑے دل سے بنائی تھی اور اس کا مہورت دہلی میں نائب صدر ڈاکٹر رادھا کرشنن کے ہاتھوں انجام پایا لیکن یہ فلم بری طرح فلاپ ثابت ہوئی۔ اس ناکامی نے گرودت کو توڑ کے رکھ دیا۔ بطور ہدایتکار ان کی خود اعتمادی خاک میں مل گئی، حتٰی کہ جب فلم 'صاحب بی بی اور غلام' بن کر تیار ہوئی تو اس پر بطور ہدایتکار گرُو دت نے اپنا نام بھی نہیں دیا۔نو اکتوبر 1964 کی شام،گرُو دت کی بیشتر فلموں کے رائٹر اور ذاتی دوست ابرار علوی ان کے پاس تھے اور کھانے پینے کی محفل کے بعد رات کے ایک بجے تک اُن کی گپ شپ ہوتی رہی۔ باتوں باتوں میں اس پر بھی بحث ہوئی کہ بعض لوگ خود کشی کےلئے بڑی تعداد میں نیند کی گولیاں کھا لیتے ہیں لیکن پھر بھی موت دغا دے جاتی ہے اور انھیں اسپتال لے جاکر بچا لیا جاتا ہے۔ چنانچہ دونوں نے ہنسی مذاق میں اس بات پر اتفاق کیا کہ گولیاں پھانکنے کی بجائے انھیں باریک پیس کر پانی میں حل کر لینا چاہیئے تاکہ فوری اثر ہو۔ رات کے ایک بجے کے قریب گرُو دت نے کہا کہ مجھے نیند آرہی ہے اورابرار علوی اپنے گھر چلے گئے۔....
हिंदी हिन्दुस्तान की स्वीकृति से एचटीडीएस कॉन्टेंट सर्विसेज़ द्वारा प्रकाशित